نئی دہلی،8؍ اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) گجرات کے سابرکنٹھا ضلع میں 14 ماہ کی بچی سے آبروریزی کے بعد ریاست میں شمالی ہندوستانیوں، خاص طور پر اتر پردیش اور بہار کے لوگوں پر حملے کے بعد وہاں سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔اس دوران گجرات حکومت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاست چھوڑ کر نہ جائیں اور جو لوگ جا چکے ہیں وہ واپس لوٹ آئیں۔گجرات کے وزیر داخلہ پردیپ سنگھ جڈیجہ نے لوگوں کو تحفظ کا بھروسہ دیا۔انہوں نے کہا کہ دوسری ریاستوں سے روزگار کے لئے گجرات آنے والے لوگوں کی حفاظت کی پوری ذمہ داری ہمارے اوپر ہے۔ہم ریاست میں قانون کا نظام بحال کرنے کے لئے کافی سنگین ہیں۔ہم نے ابھی تک 35 ایف آئی آر فائل کی ہے۔اس کے علاوہ ابھی تک 450 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔اس معاملے میں حکومت مکمل طور سنگین ہے۔ریاست کے پولیس سربراہ خود حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔گجرات کے وزیر داخلہ نے کہا کہ کچھ مٹھی بھرلوگوں نے ہمارے گجرات کی سلامتی کے تحفظ کے سامنے ایسی کوشش کی ہے۔450 سے زیادہ لوگوں کی ہم نے گرفتار کیاہے۔افواہ پھیلانے والوں کے سامنے ہم نے آئی ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔اس دوران بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے گجرات کے وزیر اعلی اور وہاں کے چیف سکریٹری سے بات چیت کی۔نتیش نے بچی کے ساتھ مبینہ آبروریزی کی مذمت کی اور کہا کہ جرم کرنے والے کو یقینی طور پر سزا دی جانی چاہئے۔لیکن دوسرے لوگوں کیساتھ برا سلوک نہیں کرنا چاہئے۔پٹنہ میں ایک پروگرام کے دوران بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا کہ ہماری گجرات کے وزیر اعلی اور وہاں کے چیف سکریٹری سے بات چیت ہوئی ہے۔ہمارے مرکزی سیکرٹری اور پولیس ڈائریکٹر جنرل مسلسل ان کے رابطے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی جو وارداتیں ہو رہی ہیں، ان پر ہماری نظر ہے۔ہم سب سے درخواست کریں گے کہ جس نے بھی جرم کیا ہے، اس کو ضرورسزا دی جائے۔اس کے ساتھ سخت کارروائی ہونی چاہئے، لیکن دوسرے لوگوں کو پریشان نہ کیاجائے۔نتیش نے کہا کہ وہاں کی حکومت بھی مکمل طور پر ہوشیار اور آگاہ ہے۔